مقالات ابو انیس محمد برکت علی لدھیانوی قدس سرہ العزیز

مقالاتِ حکمت جلد 1 صفحہ نمبر 4

<font color="#8000ff">ہیں اور خیالات کی بلندی انسانی معراج کا ابتدائی مقام ہے۔<br></font><font color="#ffffff"><span style="background-color: rgb(255, 128, 0);">مقالہ نمبر 8</span></font><font color="#8000ff"><br>اہل ذکر اللہ کی راہ میں مرے ، اگر چہ اپنے بستر پر مرے۔ انہیں ایک خصوصی زندگی عطا ہے جو عام مُردوں کو حاصل نہیں۔ پس ہم انہیں عام مُردوں میں کیوں کر شمار کر سکتے ہیں ؟<br>اللہ تعالیٰ نے فرمایا :<br>&nbsp;جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے گئے اُنہیں مردہ مت کہو، بلکہ وہ زندہ ہیں لیکن تم اسے نہیں سمجھتے۔<br>البقرة :۱۵۴<br></font><font color="#ffffff"><span style="background-color: rgb(255, 128, 0);">مقالہ نمبر 9</span></font><font color="#8000ff"><br>مُردوں کی قبروں پر بے شک گنبد بنانا منع ہے اور نہ ہی آج تک کبھی کسی نے کسی مُردے کی قبر پر گنبد بنایا۔<br></font><font color="#ffffff"><span style="background-color: rgb(255, 128, 0);">مقالہ نمبر 10</span></font><font color="#8000ff"><br>مُقربينِ من حقیقتًا زندہ ہیں اگر چہ صُورۃً زندہ نہیں ۔<br></font><font color="#ffffff"><span style="background-color: rgb(255, 128, 0);">مقالہ نمبر 11</span></font><font color="#8000ff"><br>جس کی قبر زندہ ہے ، بے شک زندہ ہے۔<br></font><font color="#ffffff"><span style="background-color: rgb(255, 128, 0);">مقالہ نمبر 12</span></font><font color="#8000ff"><br>اسی طرح ان کے اعراس باعثِ برکت ، باعثِ رحمت اور باعثِ تقویتِ دین و ایمان ہیں ۔<br></font><font color="#ffffff"><span style="background-color: rgb(255, 128, 0);">مقالہ نمبر 13</span></font><font color="#8000ff"><br>کبھی مُردوں کو بھی کسی نے یاد کیا ہے ؟ اگر وہ زندہ نہ ہوتے ، ان کی یاد زندہ نہ رہتی۔</font>

مقالاتِ حکمت جلد 1 صفحہ نمبر 3

<div><b><font style="background-color: rgb(255, 128, 64);" color="#ffffff">مقالہ نمبر 1</font></b></div><div><font color="#8000ff">قرآن کی تعمیل میں ڈرنا کفر اور مرنا شہادت ہے۔ کافر سے بدتر اور شہید سے بہتر کوئی موت نہیں ۔</font></div><font color="#ffffff"><span style="background-color: rgb(255, 128, 64);">مقالہ نمبر 2</span></font><font color="#8000ff"><br>بلبل گا یا کرتی ہے، پروانہ جلا کرتا ہے ۔ گانا کبھی ختم نہیں ہوتا اور جلنا ایک دم کی بازی ہے۔<br></font><font color="#ffffff"><span style="background-color: rgb(255, 128, 64);">مقالہ نمبر 3</span></font><font color="#8000ff"><br>گندگی نے کوے کو نکما کر دیا ، ورنہ وہ بھی ایک پرندہ ہے اور بار بھی ۔<br></font><font color="#ffffff"><span style="background-color: rgb(255, 128, 64);">مقالہ نمبر4</span></font><font color="#8000ff"><br>موتی ہر پرندے کی خوراک نہیں ۔ سیمرغ ہی موتی کھاتا اورپچاتا ہے ۔<br></font><font color="#ffffff"><span style="background-color: rgb(255, 128, 64);">مقالہ نمبر 5</span></font><font color="#8000ff"><br>شیطان سالک تھا۔ اگر مجذوب ہوتا کبھی مردود نہ ہوتا ۔<br></font><font color="#ffffff"><span style="background-color: rgb(255, 128, 64);">مقالہ نمبر 6</span></font><font color="#8000ff"><br>سالک پہ حکم اور مجذوب پر محبت غالب ہوتی ہے۔ حکم محبت کی کبھی برابری نہیں سکتا۔<br></font><font color="#ffffff"><span style="background-color: rgb(255, 128, 64);">مقالہ نمبر 7</span></font><font color="#8000ff"><br>خیالات جب پاک ہو جاتے ہیں، متحد ہو جاتے ہیں۔ جب متحد ہو جاتے ہیں بلند ہو جاتے کے ہضم کرتا ہے ۔</font>